روٹی، کپڑا اور مکان

روٹی، کپڑا اور مکان

حسنین رمل ، آپ کی سوچ اور جرات کو سلام۔ ہمارے بہت سارے باضمیر جوان بھائی اور بہن سمجھ گئے ہیں کہ آزادی کیا ہوتی ہے اور غلامی کس چیز کا نام ہے۔ اگر روٹی ، کپڑا اور مکان ہی آزادی ہے تو یہ جیل میں بھی میسر ہوتی ہے۔ جیل میں روٹی بھی مفت اور مکان بھی مفت اور کپڑا بھی مفت ، کوئی کرایہ نہیں کوئی ٹیکس نہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ روٹی کپڑا اور مکان تو جانور کو چاہے وہ رینگنے والے کیڑے ہو یا اڑھنے والے پرندےیا چار پاوں والے گھریلو یا جنگلی جانور سب کو کھانا چاہئے کسی بھی طریقے سے سب کو کپڑے کی ضرورت نہیں کیونکہ کسی کے جسم پر بال ہیں تو کسی کے پراور کسی کو جلد /چمڑے پر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے۔

جبکہ مکان کے لئے تو کوئی کسی سوراخ میں چھپتا ہے تو کوئی گھاس اور پتوں کے اندر اور زمیں کے اندر اور کسی کے لئے انسان ہی مکان تعمیر کرتا ہے

انسان اور جانور میں اگنا فرق ہے کہ انسان اپنے فکملی کے علاوہ دوسرے انسانوں کی بھلائی کا سوچے۔ اگر کسی انسان میں دوسروں کہ بھلائی کی سوچ نہیں تو وہ انسان کی شکل میں جانور ہیں جنہیں صرف اپنے اور اپنی فیملی کی روٹی ، کپڑا اورمکان کی ہی فکر ہے اور اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں

حسنین رمل، ابھی گلگت بلتستان کے اور خاص کر بلتستان کے جوانوں میں شعور آ گیا ہے اسی وجہ سے ڈر کے مارے ریٹائرڈ جنرل شعیب بلتستان کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہا تھا تاکہ بلتی جوان ڈر کر چپ رہے اور حقوق کی بات نہ کرے اور یہ سوچ اس جنرل کی ذاتی نہیں بلکہ اس ادارے کی ہے جس سے اس کا تعلق رہا ہے ورنہ اس کے جھوٹ پروپیگنڈے کے خلاف آئی ایس پی آر کیوں خاموش ہے۔

عبدالحمید خان

چئیرمین بی این ای

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here