دہشتگرد تو پاکستانی سرکار کے پاس مزے کر رہے ہیں لیکن دہشتگردی ایکٹ گلگت بلتستان والوں پر لگتا ہے اور کوئی جج یہ کہنے کی جراءت نہیں کرتا کہ میرے پاس جس سیاسی یا مذہبی مظلوم کو لائے ہو اس نے کتنے بمب پھاڑے ہیں جس سے کتنے لوگ ہلاک ہوئے اور کتنے زخمی ہوئے ، اگر اس نے کسی کو مارا نہیں تو یہ دہشتگرد کیسا؟
آخر ایسے سوالات کوئی جج کب اٹھائے گا اور پولیس والے کو الٹا ہتھکڑی کب لگوائے گا غلط مقدمات دائر کرنے پر۔ یہ اس وقت ہوسکتا ہے جب پاکستانی یو این سی آئی پی کے مطابق اپنے شہریوں کا گلگت بلتستان سے انخلا کرے اور اپنی فوج کو نکال باہر کرے اس کے علاوہ ایسا انصاف گلگت بلتستان کے عوام کو کبھی نہیں ملے گا۔
عبدالحمید خان
چیئرمین بی این ایف

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here