حفیظ اپنی تنخواہ بچانے کے لئے جھوٹ نہ بولیں

حفیظ اپنی تنخواہ بچانے کے لئے جھوٹ نہ بولیں

حفیظ الرحمٰن صاحب کہتے ہیں کہ 2018 کے آرڈر سے گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کے برابر اختیارات مل گئی۔اگر یہ سچ ہے تو پھر ذرا اس چیف سکرٹری کو ہٹا کر دکھاوجس کے ناروا سلوک پر سارا گلگت بلتستان سراپا احتجاج بن گیا تھا یا آئی جی پی یا پاکستانی آقاوں کے بھیجے ہوئے کسی اے سی یا ڈی ایس پی کو ذرا ہٹا کر دکھاو تو ہم مان لیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستانی صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں ہائی کورٹ کہاں ہے؟ یہ بھی بتادو کہ پاکستان کے چار صوبوں میں الیکشنز ہوئے اور انہوں نے اپنا پارلیمنٹ بھی چن لیا ہے گلگت بلتستان میں ایسا کیوں نہیں ہوا؟

حفیظ صاحب نے ایک اور جھوٹ کو پھر دہرایا کہ گلگت بلتستان نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا ہے یہ سفید جھوٹ ہے اگر سچ ہے تو ذرا وہ ریکارڈ دکھا دیں جس میں گلگت بلتستان کی طرف سے کس نے کیا تھا۔ اگر ایسا کچھ تھا تو پھر گلگت بلتستان 69 سالوں سے پاکستان کا حصہ کیوں نہیں بن سکا ؟ کیا کسی ایک فریق نے اس الحاق کے اگریمنٹ کو معطل رکھا ہوا ہے دوسرے فریق سے پوچھے بغیر اور اگر ایسا بھی ہے تو اس الحاق کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان کا کوئی الحاق نہیں ہواہے ، یہ یو این سی آئی پی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ہے اور پاکستان کاحصہ نہیں اور پاکستان کا اپنا آئین۔ بھی یہی کہتا ہے ۔ میر آف ہنزہ اور میر آف نگر کے الحاق سے متعلق پیپرز جعلی ہیں ورنہ ہنزہ اور نگر پاکستان کا حصہ ہوتے اگر سارا گلگت بلتستان نہ

بھی ہوتا۔
عبدالحمید خان
چیئرمین بی این ایف

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here