Maulana Sultan Raees Addressing To Youth of Gilgit Baltistan on Gb Issues

0
683

گلگت(پ۔ر)حفیظ الرحمان PARCکی زمین سٹیٹ آئل کے ہاتھوں فروخت کرنا چاہتا ہے.اسلم ایڈوکیٹ

گلگت۔ چارٹرآف ڈیمانڈ پہ عملدرآمد نہیں ہوا تو 15اگست کو پورا جی بی جام کیا جا ءے گا ۔ ایکشن کمیٹی کے احتجاج سے مقررین کا خطاب

نمائندہ وفد سے گفتگو

گلگت( ایس یو ثاقب) گلگت بلتستان کو ٹیکس فری زون بنا یا جا ئے

، ٹیکس کا فیصلہ واپس لیا جا ئے ، منرل میں سابقہ پالیسی کو وپس لایا جائے ،سی پیک میں حصہ دیا جائے ،سبسڈی کا خاتمہ ہر گز قبول نہیں ہے ،

ہماری ملکیتی ارا ضیوں پہ کسی پنجا بی ، پٹھان ، سندھی اور بلوچی کی اجارہ داری قبول نہیں کر ینگے ۔ میڈیکلاور، انجینئر نگ یو نیورسٹی کا قیام

عمل میں لا یا جا ئے ۔ ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنا یا جا ئے ، میرٹ کی پامالی ہر گز بر داشت نہیں ہے ، دیگر صو بوں کے آفیسران کو واپس

بجھوا دیا جائے اور گلگت بلتستان کے بے راز گار نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جا ئے ، گلگت سکرود روڈ پہ کام فوری طور پر شروع کیا جائے ،

ہینزل پاور پرا جیکٹ اور سکار کو ئی پاور پرا جیکٹ پہ فوری کام کیا جائے اور بجلی کے مصنو عی لو ڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جا ئے ، چا رٹر آف

ڈیما نڈ پہ عمل نہ ہوا تو 15اگست کو پورا گلگت بلتستان کو جام کر دیا جا ئے گا ۔ ان خیا لات کا پروفیسر سید یعصب الدین نے عوامی ایکشن کمیٹی

کے احتجاجی جلسے سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت صبر کیا اب کی بار حکو مت خود عوام کے ساتھ براہ راست فراڈ کر

رہی ہے اس بار ہم آرمی چیف سے اپیل کر تے ہیں کہ وہ جی بی کے مسائل کے حل کے لیئے از خود کردار ادا کر ے ۔ عالمی عدالت انصاف بھی اپنا

کعدار ادا کر ے ورنہ عالمی عدالت سے بھی عوامی توقعات ختم ہو نگے ۔ جموں سمیت آزاد کشمیر میں سہولیات کے ساتھ متنا زعہ حیثیت کو برقرار

رکھتے ہو ئے سٹیٹ سبجیکٹ کا قانون کی خلاف ورزی کوئی نہیں کر رہا ہے صرف گلگت بلتستان میں خلاف ورزی ہو رہی ہے فورری طور پر

غیر مقامی افراد کو جی بی سے بے دخل کر دیا جا ئے اور جی بی کے سٹیٹ کو حکومت پاکستان آزاد کشمیر کی طرح اراضیوں پہ تحفظ فراہم کر ے

۔ احتجاج سے خطاب کر تے ہو ئے صفد ر علی ، شاہد حسین شاہد نے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ اب تک جتنے بھی معاہدات ہو ئے ہیں ان میں جی

بی کے عوام کو پس پشت ڈالا گیا ہے سی پیک میں بھی اسی طر ح کیا گیا ہے لیکن اس ظلم پہ خاموش نہیں رہا جا ئے گا اور عوامی حقوق کے لیئے

مکمل طور پر میدان میں اتر کر کام کیا جا ئے گا ۔ حکومت پاکستان نمائندگی کے طور پر اپنے ہی وزیر اعلیٰ اور گورنر کو لیتی لیکن یہ بھی نہیں کیا

جو کہ بد نیتی کی واضح مثال ہے اب کی بار عوام با شعور بن چکے ہیں اور اپنے حقوق کا ادراک کر نا جا نتے ہیں ،احتجاج سے خطاب کر تے ہو

ئے غلام عباس ، محمد فاروق، فاروق احمد ، اور منرل کے ذمہ داران نے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ حکومت نے ہمارے ہی وسا ئل وفاق کو دیکر

خود مسائل سمیٹے ہو ئے ہیں سب کچھ ہمارا ہے لیکن مالک کو ئی اور ہے فیصلے کو ئی اور کر تا ہے ، اگر پاکستان ہمیں متنازعہ کہ کر ٹر خا رہا

ہے تو ہم بھی ان کے ساتھ کسی قسم کا رشتہ نہیں رکھنا چا ہتے ہیں ، اب تک بہت ہو الیکن اس بار عوام پہ ہو نے والے مظالم کا خاتمہ اور چارٹر آف

ڈیمانڈ پہ عمل نہ ہوا تو پورے جی بی کو پندرہ اگست کو جام کر کے نام نہاد عوامی نمائندوں کو ان کے گھو نسلوں میں بھی چھپنے نہیں دیا جائے گا

۔آخر مشترکہ اعلامیہ بھی جا ری کر دیا گیا جس میں چارٹر آف ڈیماند کے حصو ل کا مطالبہ کیا گیا اور حکومت کو تنبہ کیا گیا ہے کہ وہ مذاق بند کر

کے عوامی مسائل حل کر نے کے لیئے کردار ادا کر ے اگر ان سے کچھ نہیں ہو سکتا ہے تو استعفیٰ دیکر اپنے گھر چلے جا ئیں۔

لگت۔ چارٹرآف ڈیمانڈ پہ عملدرآمد نہیں ہوا تو 15اگست کو پورا جی بی جام کیا جا ءے گا ۔ ایکشن کمیٹی کے احتجاج سے مقررین کا خطاب

0 08:29:00

نمائندہ وفد سے گفتگو

گلگت( ایس یو ثاقب) گلگت بلتستان کو ٹیکس فری زون بنا یا جا ئے


، ٹیکس کا فیصلہ واپس لیا جا ئے ، منرل میں سابقہ پالیسی کو وپس لایا جائے ،سی پیک میں حصہ دیا جائے ،سبسڈی کا خاتمہ ہر گز قبول نہیں ہے ، ہماری ملکیتی ارا ضیوں پہ کسی پنجا بی ، پٹھان ، سندھی اور بلوچی کی اجارہ داری قبول نہیں کر ینگے ۔ میڈیکلاور، انجینئر نگ یو نیورسٹی کا قیام عمل میں لا یا جا ئے ۔ ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنا یا جا ئے ، میرٹ کی پامالی ہر گز بر داشت نہیں ہے ، دیگر صو بوں کے آفیسران کو واپس بجھوا دیا جائے اور گلگت بلتستان کے بے راز گار نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جا ئے ، گلگت سکرود روڈ پہ کام فوری طور پر شروع کیا جائے ، ہینزل پاور پرا جیکٹ اور سکار کو ئی پاور پرا جیکٹ پہ فوری کام کیا جائے اور بجلی کے مصنو عی لو ڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جا ئے ، چا رٹر آف ڈیما نڈ پہ عمل نہ ہوا تو 15اگست کو پورا گلگت بلتستان کو جام کر دیا جا ئے گا ۔ ان خیا لات کا پروفیسر سید یعصب الدین نے عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی جلسے سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت صبر کیا اب کی بار حکو مت خود عوام کے ساتھ براہ راست فراڈ کر رہی ہے اس بار ہم آرمی چیف سے اپیل کر تے ہیں کہ وہ جی بی کے مسائل کے حل کے لیئے از خود کردار ادا کر ے ۔ عالمی عدالت انصاف بھی اپنا کعدار ادا کر ے ورنہ عالمی عدالت سے بھی عوامی توقعات ختم ہو نگے ۔ جموں سمیت آزاد کشمیر میں سہولیات کے ساتھ متنا زعہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہو ئے سٹیٹ سبجیکٹ کا قانون کی خلاف ورزی کوئی نہیں کر رہا ہے صرف گلگت بلتستان میں خلاف ورزی ہو رہی ہے فورری طور پر غیر مقامی افراد کو جی بی سے بے دخل کر دیا جا ئے اور جی بی کے سٹیٹ کو حکومت پاکستان آزاد کشمیر کی طرح اراضیوں پہ تحفظ فراہم کر ے ۔ احتجاج سے خطاب کر تے ہو ئے صفد ر علی ، شاہد حسین شاہد نے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ اب تک جتنے بھی معاہدات ہو ئے ہیں ان میں جی بی کے عوام کو پس پشت ڈالا گیا ہے سی پیک میں بھی اسی طر ح کیا گیا ہے لیکن اس ظلم پہ خاموش نہیں رہا جا ئے گا اور عوامی حقوق کے لیئے مکمل طور پر میدان میں اتر کر کام کیا جا ئے گا ۔ حکومت پاکستان نمائندگی کے طور پر اپنے ہی وزیر اعلیٰ اور گورنر کو لیتی لیکن یہ بھی نہیں کیا جو کہ بد نیتی کی واضح مثال ہے اب کی بار عوام با شعور بن چکے ہیں اور اپنے حقوق کا ادراک کر نا جا نتے ہیں ،احتجاج سے خطاب کر تے ہو ئے غلام عباس ، محمد فاروق، فاروق احمد ، اور منرل کے ذمہ داران نے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ حکومت نے ہمارے ہی وسا ئل وفاق کو دیکر خود مسائل سمیٹے ہو ئے ہیں سب کچھ ہمارا ہے لیکن مالک کو ئی اور ہے فیصلے کو ئی اور کر تا ہے ، اگر پاکستان ہمیں متنازعہ کہ کر ٹر خا رہا ہے تو ہم بھی ان کے ساتھ کسی قسم کا رشتہ نہیں رکھنا چا ہتے ہیں ، اب تک بہت ہو الیکن اس بار عوام پہ ہو نے والے مظالم کا خاتمہ اور چارٹر آف ڈیمانڈ پہ عمل نہ ہوا تو پورے جی بی کو پندرہ اگست کو جام کر کے نام نہاد عوامی نمائندوں کو ان کے گھو نسلوں میں بھی چھپنے نہیں دیا جائے گا ۔آخر مشترکہ اعلامیہ بھی جا ری کر دیا گیا جس میں چارٹر آف ڈیماند کے حصو ل کا مطالبہ کیا گیا اور حکومت کو تنبہ کیا گیا ہے کہ وہ مذاق بند کر کے عوامی مسائل حل کر نے کے لیئے کردار ادا کر ے اگر ان سے کچھ نہیں ہو سکتا ہے تو استعفیٰ دیکر اپنے گھر چلے جا ئیں۔

AAC pix

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here