ٹیکس کا حقدار کون؟ پاکستان یا گلگت بلتستان؟

عبدالحمید خان
چیئرمین بالاورستان نیشنل فرنٹ۔

یہ چیف سیکرٹری نہیں بلکہ چیپ سیکرٹری ہے
جسے سیاست پسند نہیں لیکن منافق کی تقرری تو سیاستدانوں نے ہی کیا ہوگا۔ اسے سیاست پسند نہیں تو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے سیاستدانوں کے بارے میں اس لارڈ صاحب کا کیا رویہ ہوگا۔ گلگت بلتستان کے اس آدمی نے اسے سنائی تو ہے۔
پاکستان سال میں اگر سو ارب دیتا ہے تو اس چیف۔سیکرٹری جیسے لوگوں کے ذریعت ستر فیصد واپس لے جاتا ہے باقی جی بی ایل اے جیسے اپنے نوکروں پر خرچ کرتا ہے لوگوں کو کیا دیتا ہے جبکہ گلگت بلتستان کے سونے کے کانوں کو لوٹتا ہے یورینیم لوٹتا ہے جو اربوں نہیں کھربوں میں ہے۔ اسٹریلین کمپنی آف پی۔ایم۔ڈی۔سی نے 1995میں گلگت بلتستان کے 123 گولڈ مائنس (سونے کی کانیں) کی مالیت پانچ سو ٹریلین ڈالر لگایا تھا۔ یورینیم تو اس سے بھی قیمتی ہے باقی سوست کسٹم کے انکم پر حق گلگت بلتستان کاہے لیکن پاکستان لوٹ رہا ہے ان کا کوئی حق نہیں۔دریائے انڈس کی رائیلٹی بیس بلین سے زیادہ گلگت بلتستان کو ملنی چاہئے۔ باقی پاکستان میں داخل ہونے والے سیاحوں میں سے اسی( 80) فیصد گلگت بلتستان کے لئے آتے ہیں ان سے سار ا کچھ پاکستان لوٹتا ہے دیامر کے جنگلات پاکستان لوٹتا ہے جب کہ دیامر کو ان کا ایک فیصد ہی دیتا ہے ۔ پھر بھی چیف سیکرٹری پوچھتا ہے کہ آپ کیا 1 روپیہ ٹیکس دیتے ہیں؟ وہ کیا آپ کے ہاتھ میں
بتھہ دے گا ؟ ٹیکس تو آپ سب سے لوٹتے ہیں جو مالپاکستان سے منگواتے ہیں سال میں اس پر پچاس ارب ان ڈائریکٹ ٹیکس پاکستان گلگت بلتستان سے لیتا ہے ٹیکس تو گلگت بلتستان نے نہیں بلکہ پاکستان گلگت بلتستان کو اس کا نہ صرف ٹیکس دے بلکہ ستر سالوں سے جتنا لوٹا ہے اسے واپس کرے اگر اس کے پاس رقم نہیں تو اپنی زمین دے لوٹ مار کی کمپنسیشن۔
ہم اس لئے کہتے ہِیں کہ پاکستان نے صرف اپنے چیپ سکرٹری بلکہ تمام شہریوں کو یو این سی آئی پی کی قراردادوں کے مطابق گلگت بلتستان سے نکال دیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here