واخان اور بدخشان میں داعش کی سرگرمیاں گلگت بلتستان کیلئے بڑا خطرہ ہیں،وزیراعلیٰ

0
535

اسلام آباد:وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ اطلاعات ہیں کہ غذرکے ساتھ افغانستان کے علاقے واخان اور بدخشان میں داعش اوران سے ہمدردی رکھنے والے لوگ جمع ہورہے ہیں ان میں اکثریت تاجک ہے۔نجی ٹی وی کودےئے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعلیٰ کاکہنا تھا کہ غذرسے ملحقہ15کلو میٹرکی پٹی کے بعدتاجکستان موجود ہے اوریہاں پرداعش کی سرگرمیاں گلگت بلتستان کے لئے بڑاخطرہ ہیں۔اس لئے حکومت نے خاص اقدامات کےے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں داعش کاوجود ممکن نہیں تاہم دیامرمیں کچھ علاقے اےسے ہیں جہاں طالبان موجود ہیں اور وہ مفرورہیں ہم نے انہیں پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سرنڈرکردیں ورنہ ہرصورت انہیں گرفتارکیاجائے گا۔ایک سوال کے جواب میں ان کاکہنا تھا کہ بھارت نے60کروڑڈالرگلگت بلتستان اوربلوچستان میں شورش پیداکرنے کے لئے مختص کےے ہیں تاکہ اقتصادی راہداری کو ناکام بنایاجاسکے۔بھارت بلوچستان میں فراریوں کوسپورٹ کرسکتا ہے اورگلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ فسادات پیداکرسکتا ہے۔آئینی حقوق کامعاملہ چونکہ حساس ہے اور اس معاملے کو بھی بھارت اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔ آئینی حقوق سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرتاج عزیزکی سربراہی میں قائم کمیٹی اپنی رپورٹ16جنوری تک مکمل کرے گی ۔تاہم19یا20جنوری تک لیٹ ہوسکتی ہے۔ 30جنوری تک رپورٹ وزیراعظم کوبھیج دی جائے گی اور یہ وزیراعظم کی صوابدیدہے کہ وہ اس کی منظوری دےتے ہیں یاپارلیمنٹ میںبھیج دےتے ہیں۔یااے پی سی بلالیتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعدہم نے سیاسی جماعتوں سے رائے لی اوران کی تجاویزکو کمیٹی میںپیش کردیا۔آئینی حقوق کے معاملے میں سب سے اہم معاملہ مسئلہ کشمیر ہے ہماری کوشش ہے کہ گلگت بلتستان کوآئینی حیثیت دینے سے مسئلہ کشمیرمتاثرنہ ہواوروہاں کے عوام کوحقوق بھی ملیں۔انہوں نے کہا کہ اس بات میںکوئی صداقت نہیں کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے معاملے میں چین کاکوئی دباﺅ ہے۔انہوں نے کہاکہ اس معاملے میں چین کاکوئی دباﺅ نہیں جو بھی فیصلہ ہوگا حکومت پاکستان کااپناہوگا۔ایک سوال کے جواب میںوزیراعلیٰ کاکہناتھا کہ اقتصادی راہداری پرمنعقدہ اے پی سی میں شرکت کی ہمیں دعوت نہیں دی گئی چونکہ یہ آل پارٹیزکانفرنس تھی اور اس میں ہماری پارٹی کی نمائندگی موجود تھی۔اگر یہ آل پروونیشنل کانفرنس ہوتی تو ضرورمجھے بلالیتے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے سے پاکستان کامستقبل روشن ہوگا۔دوزون گلگت بلتستان میں بنیں گے۔وفاق نے ہم سے صنعتی زون کے قےام کے لئے جگہ کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی تھی ہم بمشکل ایک جگہ کی نشاندہی کرسکے ہیں دوسرے کی ابھی نہیں ہوئی۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بھٹونے راجگی نظام کوختم کرکے گلگت بلتستان کو تباہ وبربادکردیا۔بھٹو کے فیصلے سے خطے میں فرقہ واریت کی لہرپیداہوئی۔انہوں نے کہا کہ بھٹو نے راجگی نظام ختم کرنے کے بعدمتبادل نظام نہیں دیا۔ہمیں ایک جمہوری سسٹم دیناچاہےے تھا اس کی بجائے کونسل اوربیوروکریسی کوبیٹھادیاگیا۔ اس فیصلے سے گلگت بلتستان میں معاملہ خراب ہوا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ2009میں جب پیپلزپارٹی نے سیٹ اپ دیا تو علاقے کے کسی بھی شخص سے پوچھاتک نہیں ساراکام اسلام آباد میں ہوا،اورپھروہاں پرنافذکردیاگیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ منرل کالائنس جوپہلے مقامی سیکرٹری دیتا تھا اب صرف وزیراعظم ہی دے سکتا ہے۔لیکن ابھی جو کام آئینی حیثیت کے بارے میں ہورہا ہے اس کے لئے تمام سٹیک ہولڈرزسے مشاورت کی گئی ہے۔مسلم لیگ ن کے مرکزی انتخابی منشورمیں اس معاملے کو اہمیت دی گئی تھی ۔وزیراعظم نے اس کو عملی جامہ پہناناشروع کردیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مشرف نے جوپیکیج گلگت بلتستان کودیاوہ وزیراعظم نوازشریف نے پہلے ہی تیارکےے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here