شیر کا شکریہ

0
175

شیر کا شکریہ

تحریر: ایڈووکیٹ شکورخان

1857 کی جنگ آزادی انگریز کی ایسٹ انڈیا کمپنی کےخلاف لڑی گئ تھی جس میں مسلمان سکھ ہندو سب ‎‎شامل تھے، ان سب کو شکست ہو گئ اور انگریز برصغیر پرچھا گیا اور 14 و 15 اگست 1947 کی رات 12 بجےتک یعنی پورے 90 سال برصغیر کی تینوں اقوام پردندناتا ہوا حکومت کرتا رہا
سوال یہ ہے کہ تین بڑی طاقتیں یعنی ہندو، سکھ اور مسلمان کو محدود تعداد میں موجود انگریز نےان کے اپنےوطن میں کیسے شکست سے دوچار کیا ؟ اور جواب یہ ہے کہ اس جنگ آزادی کےلڑنے والےجان نثار کم اورغدار زیادہ تھے، میرجعفر اور میرصادق جیسےغداران وطن تھے جن میں سےبعض نے کھلےعام اورکچھ نےپیٹھ پیچھےجیوےجیوےانگریز سرکار، سب سے پہلےبرطانیہ اور انگریز بہادرزندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگا کراپنوں کو غداراور ان کی قربانیوں کو بغاوت سےتعبیرکیا جن میں مسلمان سب سےزیادہ پیش پیش تھےجبکہ ہندو دوسرے نمبرپرتھے،سکھوں نے وطن فروشی کا داغ خود پر اس وقت بھی نہیں لگنےدیا۔ا
برصغیر کےبیشترمسلمان لیڈرقیام پاکستان تک سب سےزیادہ انگریزوں کےوفادار رہےجس کا صلہ انہیں ہندوستان کی تقسیم کی صورت میں ملا۔
اہم سوال یہ ہےکہ جنگ آزادی کےدوران برصغیر کےاقوام کی متحدہ جنگی قوت کو بےرہمی سےکچلنےوالا برطانیہ مزاکرات کی میز پرہند کی آزادی پر رضامند کیسےہوا؟ جواب اس کا بہت طویل ہےلیکن مختصرا عرض کیےدیتا ہوں۔ برطانیہ کا برصغیرسمیت افریقہ، ایشیا، جنوبی و وسطی امریکہ کےنوآبادیات کی آزادی کا 1939 تک کوئی ارادہ نہ تھا۔ جرمن کے نازی لیڈر ہٹلر نے یورپ پر حملہ کیا تو برطانیہ کو اپنےدفاع میں میدان جنگ میں کودنا پڑا۔ اٹلی اور جاپان جنگ عظیم دوئم میں جرمنی کےاتحادی تھے، جرمن اتحاد کےہاتھوں برطانیہ عنقریب شکست کےقریب تھا کہ اسی دوران جرمنوں نے پوری قوت سے روس پرحملہ کردیا جوخود جرمنوں کےلیےمہلک ثابت ہوا، ابتدائی یلغار میں جرمن افواج روسی فوج اور شہریوں کوتہ تیغ کرتےہوئےماسکو پہنچ گیےجس سےکریملن کی درودیوار ہلنے لگیں لیکن سخت جان روسی نہ صرف جرمن یلغار کے سامنے ڈٹ گئے بلکہ جرمنوں کو دھکیلتے دھکلتےواپس جرمن دارلخلافہ برلن پہنچا دیا، وہ ہٹلر کےزیرزمین بینکرپہنچنےہی والےتھےکہ ہٹلر نے اس کی خبرپاکر محبوبہ ایوا براون سمیت خودکشی کرلی۔ یاد رہےکہ جنگ عظیم دوئم میں روس کے دو کروڑ ساٹھ لاکھ افراد لقمہ اجل بنے جن میں 87 لاکھ فوجی جوان شامل تھے، اس بہادر قوم نےاتنا بڑا نقصان قبول کیا لیکن شکست قبول نہ کیا، یوں سخت جان جفاکش جرمنوں کوفیصلہ کن شکست دیں۔
ایک اور بات قابل غور ہے کہ دس سالہ افغان خانہ جنگی کےدوران عالمی اعداد وشمارکےمطابق دوملین افغانی اور15 ہزار روسی جانوں سےہاتھ دھوبیٹھے۔ کیا روس کو افغانستان میں شکست ہوئی تھی؟ اس موضوع پرمیرے اگلےمضمون کا انتظارکیجیے۔
شکست سےقبل جرمن فضائیہ نےلندن کوبارود کے ڈھیر میں تبدیل کردیا تھا برطانیہ کی پوری فضائیہ گراونڈ ہوچکی تھی، صنعت وتجارت تباہ ہوچکی تھی، عسکری صلاحیت حالت نزع میں تھی، خزانے میں پھوٹی کوڑی نہیں بچی تھی، ایسے میں برطانیہ نوآبادیات کو کیا سنبھالتا خود برطانوی قوم کو سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔ ونسٹن چرچل نے برصغیرسمیت افریقہ، ایشیا،وسطی و جنوبی امریکہ سے بتدریج نوآبادیات سمیٹنے کا فیصلہ کرلیا جس کےنتیجےمیں 1946 سے1952 تک کےمختصرعرصےمیں برطانیہ نے دنیا بھرکے 77 نوآبادیات میں سے 60 سے زائد کو آزادی دی جن میں انڈیا، پاکستان، سری لنکا اور برما بھی شامل ہیں
تقسیم ہند کے دوران قربانیاں دینا کجا کسی کی انگلی بھی زخمی نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی کے جیب سے چوانی ضائع ہوگئ تھی۔ مسلمان انگیز وفاداری کے صلےمیں برصغیرتقسیم کرانے میں کامیاب ہوئے
ہندوستان اورپاکستان کےقیام کےبعد خطہ ہندوستان کےوہ مسلمان جنہیں پاکستان میں بہترمستقبل نظرآیا انہوں نے پاکستان کی طرف ہجرت یا نقل مکانی کیں اور وہ ہندو و سکھ باشندے جنہیں پاکستان میں بقاخطرے میں لگا وہ گھربار چھوڑ کرمختصر مال متاع سمیت رخت سفرباندھا اوربھارت کوچ کرنےلگے، چونکہ ہردوطرف مہاجرت کرنےوالوں کےپاس زندگی بھرکی جمع پونجی نقد اورزیورات کی شکل میں موجود تھی، اسی سونا چاندی، قیمتی پارچات و نقد کی لالچ نے دوطرفہ خطوں کےڈاکوں، چوروں، اثھائی گیروں اوربدمعاشوں کی توجہ ان قافلوں کی طرف مبزول کیں، نتیجتا قافلے لٹتےرہے، جنہوں نےمزاہمت کی گائل ہوئے یا قتل کردیےگئے، جس دوران آبروریزی اورجوان بچیوں کےاغوا کےواقعات بھی دیکھنے کو ملے۔
درج بالا سانحات میں جتنا جانی و مالی نقصان ہوا یا عصمتیں لٹیں وہ دوران سفر قافلوں پر رہزنوں کی جانب سے شب خون مارنےکےنتیجےمیں پیش آئیں جو قدریں بہترمستقبل کےامکانات کے پیش نظرنقل مکانی کا فیصلہ کرچکےتھے جس پر عملدرآمد کے دوران حادثات سےدوچار ہوئے۔ ان واقعات کو ہندوستاں یا پاکستان کےلیےقربانیوں سےتعبیر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ سانحات تقسیم سےقبل نہیں بعد پیش آئے تھے جب ہر دو ممالک معرض وجود میں آچکےتھے۔
گلگت بلتستان کےبعض پڑھے لکھے نوجوان پاکستانیوں کی نقل کرتے ہوئے لکھتےہیں کہ “پاکستان ہمارے آباواجداد کی قربانیوں کےنتیجےمیں معرض وجود میں آیا”، ٹیکس کےنفاذ کےخلاف گزشتہ ریلی کےدوران کراچی میں گلگت بلتستان کے ایک نوجوان نے” پاکستان بنایا تھا پاکستان بچائیں گے” کا نعرہ لگایا ! ارے میرے دیس گلگت بلتستان کے بھولے بھالے جوانو؛ پاکستان بنانے کے لیےگلگت بلتستان والوں کو دعوت نہیں دی گئ تھی اسی لیے آج کےدوملین سے زائد آبادی کے گلگت بلتستان میں کسی ایک فرد کا بھی باپ دادا پاکستان بنانے دہلی، ممبئ، ڈھاکہ یا کراچی نہیں گیا تھا۔ محمد علی جناح نے گلگت بلتستان کا نام بھی نہیں سنا تھا کہ اس نام کا کوئی خطہ بھی کرہ عرض پرموجود ہیں اور نہ انہیں جلسہ جلوس کی شکل میں عوامی اجتماعات کی ضرورت تھی کیونکہ انگریز پاکستان اور ہندوستان ڈائیلاگ کی میز پرطشتری میں سجاکےدے رہا تھا۔
انگریز نےان نوآبادیات کو آزادی دلانےمیں زیادہ دیرنہیں لگا‏ئی جنہوں نے جنگ عظیم دوئم میں ساتھ دیا تھا جن میں آج کا ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور برما(میانمر) بھی شامل ہیں۔ یہ ممالک مجموعی طور پر اس زمانے میں ہند کہلاتےتھے،جنگ عظیم دوئم میں ہندی فوج انگریزکی زیرنگرانی برما کےمحاذ پر جاپانیوں کے ساتھ نبر د آزما رہی۔
جنگ عظیم دوئم میں برطانیہ سمیت اتحادی افواج کی بجائے جرمن اتحاد کو اگرکامیابی حاصل ہوتی جن میں اٹلی اور جاپان شامل تھے تو یورپ کے ممالک جرمنوں اور اٹالین کے نوآبادیات میں تبدیل ہوجاتے اور لامحالہ ہند کا خطہ جس میں آج کا پاکستان شامل ہے جاپان کی کالونی بن جاتا، یعنی آج کے پاکستانی انگریزکی غلامی سےنکل کرجاپان کی غلامی میں چلےجاتے، جاپان برما کےمحاذ پراپنےخلاف جنگ میں حصہ لینےکی پاداش میں خطہ ہند کےعوام کو بشمول کشمیروگلگت بلتستان بطور سزا تا دیرغلام بنائےرکھتا۔
سوال یہ ہےکہ خطہ ہند سمیت کشمیراورگلگت بلتستان کےباسی اس نئی غلامی کو تادیرقبول کرلیتے؟ جواب اس کا ہاں میں بھی ہےاورنہیں میں بھی۔ جس طرح ماضی میں خطےکی اکثریت نے ایام غلامی میں بریٹش راج زندہ باد کا نہ صرف نعرہ لگایا بلکہ حریت پسند ہم وطنوں کی جاسوسی میں بھی پیچھے نہ رہے ، یہ وطن فروش آزادی پسندوں کی سرگرمیوں کی پل پل کی خبریں انگریزوں کےمقامی کارندوں تک پہنچا کرچھوٹے موٹےانعامات اورجیب خرچ حاصل کیا کرتےتھے، ہزاروں میرصادق اور میرجعفر اس دورمیں پیدا ہوگئےتھےجبکہ دوسری طرف شاہ اسماعیل شہید، سعیداحمد شہید اور بگھت سنگھ جیسےسرفروشوں کو بھی ماؤں نے جنم دیا تھا جنہوں نےجانیں دیں لیکن غلامی کوقبول نہ کیا۔ ا
انفرادی غلامی کو1895 میں اقوام عالم نے رد کردیا تھا لیکن اجتماعی غلامی کرہ عرض پرکسی نہ کسی صورت میں غداروں کےتعاون سے آج بھی موجود ہیں جس کےخلاف مظلوم و محکوم مختلف خطوں میں برسرپیکارہیں۔ ان میں کشمیر، اکسائی چن، شکسگام بشمول گلگت بلتستان شامل ہیں جن کےعوام آج بھی محکوم و غلام ہیں۔ جس طرح خیرکےساتھ شرکے وجود سےانکارنہیں کیاجاسکتا بالکل اسی طرح محیبان وطن کی صفوں میں غداران وطن بہ کثرت پائےجاتےہیں۔
غدارکو اس سےکیاغرض کہ وطن پر قابض آقا کا اسم گرامی برطانیہ ہے یا جاپان یا آج کا انڈیا، چین یا پاکستان، اسے اگرکچھ غرض ہےتو وظیفہ، نوکری، سیاسی عہدہ، کمیشن اورلفافہ سے ہے جو وقتا فوقتا اسےملتا رہتا ہے۔ ہردور کے ہرمیرجعفر اور میرصادق کا یہی وطیرہ رہا ہے اور آئیندہ بھی رہےگا۔ وطن فروشان کےبلمقابل سرفروشان کی بھی کمی نہیں جو مادروطن کی آزادی کےلیے کوشاں ہیں اور ائیندہ بھی رہیں گے۔
گلگت بلتستان نے محدود قربانی دے کر اپنا خطہ ڈوگروں سےآزاد کرایا جبکہ بھارت اورپاکستان کو ان کا دیس مزاکرات کی میزپرپلیٹ میں سجا کےپیش کیا گیا، نصیب اپنا اپنا۔
آزادی ہند جنگ عظیم دوئم کے متحرب فریق کی فوجی و اقتصادی تباہی کا نتیجہ تھا نہ کہ کسی قربانی کا۔ تاج برطانیہ اگر نقصان کےبغیرفتح سےہمکنارہوتا توہند سمیت تمام نوآبادیات پر مزید سختی سے پنجےگاڑ لیتا، دوسری طرف جنگ جیتنےکی صورت میں جرمنی کا اتحادی جاپان کشمیر و گلگت بلتستان سمیت برصغیرکو مستقل غلام بنا لیتا، تب آج کےوظیفہ خور جیوےجیوےجاپان، جاپان زندہ باد افواج جاپان پائیندہ باد کے نعرےلگاتے نہیں تھکتےاورآج کےقوم پرست ومحب وطن جاپانی قبضہ کوناجائز ڈیکلیر کرکےآمادہ بغاوت ہوتے۔
پاکستانیوں کو ہٹلرنامی نازی شیرکو سلوٹ پیش کرنا چاہیے جس نے 90 سال سے برصغیرپرمسلسل گاڑے برطانیہ کے پنجے مروڑ دیے، دوسرے نمبرپہ سخت جان پہاڑ جیسےعظم و ہمت والی روسی قوم کی تعظیم کرنی چاہیے جس نے عزم و استقلال اورلازوال قربانی سے اپنےعہد کےسپرپاور جرمنی کودھول چٹا دیں۔ اور آخیرمیں امریکہ کا شکریہ ادا کرنا کیسے بھولے کہ وہ اگر جاپان کوخاک و خون میں نہ نہلاتا تو دنیا کےنقشے پرپاکستان نامی ملک کی بجائے محض ہند ہوتا یعنی جاپان کی نوآبادیات ہند، غلام ابن غلام ہند۔
شیر کا شکریہ جس نےحملہ کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here